September 14, 2014

Morning in Utopia

یوٹوپیا میں ایک صبح
ایک دن میرے من میں بھی امن کا سورج طلوع ہو گا ذہن و دل یک آواز ہو کے بہاروں کا نغمہ گائیں گے ہماری بیتی ہوئی پریم کہانی جھوم کے دوہرائیں گے ان سنے رسیلے گیت کی بارش سے فضا مہکائیں گے
اس صبح کی خاطر میں امید کی شعاؤں سے خوابوں کی پناہوں سے اپنی امنگوں کو بہلاؤں گی انتظار کو کروٹ دلاؤں گی
میں ذہن و دل باہم کر کے دوستی کا پرچم لہراؤں گی یگانگت کی ایک اک سطر دونوں کو ازبر کراؤں گی

میرے مہربان کچھ دیر ٹھہر ہر بات کو بھلا کے سب رنج وغم مٹا کے اشک ندامت ہو یا رنگ ستم ہو اب کہ محبّت کا وہ باب رقم ہو جسکی ضیا جسکا لکھا پیہم ہو

آ کے تھام لو مجھے بیچ منجدھار پھر ہو کے سفینہ محبّت میں سوار گلے میں ڈالے میری بانہوں کا ہار مجھے لے چلو کہکشاں کے پار نہ غم جہاں ہو نہ غم کاروبار دور رہ جائے نا امیدی کی یلغار بس اک میں اک تم اور سبزہ زار سنہری پھولوں سے لدی شاخیں رنگوں سے بھری ہرڈالی مشکبار ہر سو چڑیوں کی ہو چہکار مجھے اس سورج کا ہے انتظار سراپا یقین ہوں کہ یہ روز یادگار آئے گا ضرور اک دن میرے دلدار
© ATK

No comments:

Post a Comment